مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو نے اعتراف کہا ہے کہ صہیونی حکومت اقتصادی تنہائی کا شکار ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ساتھ روایتی میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر اثرانداز ہونے کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق، نتن یاہو نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اسرائیل کو عالمی سطح پر سخت اقتصادی اقدامات اور ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس سے اس کی بین الاقوامی ساکھ مزید کمزور ہوگی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ بین الاقوامی مہمات اسرائیل کو عالمی برادری میں الگ تھلگ کر رہی ہیں اور اس کے تشخص پر گہرا اثر ڈال رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ